ہمیں کلفٹن ٹائمز کیلئے کالم لکھتے ہوئے تقریباً چا رماہ ہوگئے، اس دوران ہم نے جو بھی کالم لکھا وہ ریئل اسٹیٹ ہی کے کسی موضوع پر لکھا، اس لئے اس بار سوچا کہ کیوں نہ کچھ تبدیلی لائی جائے ، ویسے بھی آج کل ہر طرف تبدیلی کا چرچاہے اس لئے امید ہے یہ تبدیلی قارئین کے ذوق پر گراں نہیں گزرے گی بلکہ ان کو ایک ہی موضوع پر کالم پڑھ پڑھ کر جو بوریت محسوس ہورہی ہے شاید اس میں کچھ افاقہ ہوجائے ۔ تولیجئے یہ تحریر حاضر ہے، اس سچے واقعے کو پڑھ کر اپنے ذوق کی تسکین بھی کیجئے اور اس میں موجود پیغام کو سمجھ کراس پر عمل کرنے کے بارے میں بھی سوچئے ۔ تحریر ہماری نہیں کسی اور صاحب قلم کی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس نے جتنے بھی کاروبار کئے سب فلاپ ہوئے،یا تو نقصان ہوتا رہا یا نقصان ہونے کا اندیشہ ہونے لگا تو جان چھڑا کر جان اور مال بچایا ۔
پراپرٹی کا کاروبار بھی نہ چلا،موٹر سائیکلوں کا شورو م بھی ٹھپ،کپڑے کی دکان بند ہوگئی،میڈیکل اسٹور کھولا تو گویا لوگوں نے دوائی کھانی چھوڑ دی ہو،فروٹ کی اعلیٰ انداز و کوالٹی کی مہنگی مارکیٹ میں شاپ بنائی تو گاہک ندارد!
میرا ہر کاروبار کیوں ٹھپ ہوجاتا ہے؟کیا میں باقی کاروباری لوگوں کی نسبت بے ایمان زیادہ ہوں ؟بد اخلاق زیادہ ہوں ؟ناجائز منافع خوری زیادہ کرتا ہوں ؟اس طرح کے سوالات وہ خود سے خیالوں میں کرتا تو ضمیر جواب میں کہتا ۔ ۔ ۔ نہیں نہیں !
پھر میرا کوئی کاروبار کیوں نہیں چلتا؟ اس سوال کا جواب نہ ضمیر سے ملتا اور نہ جاننے والوں سے ۔ اس نے خدا کی مرضی سمجھ کر کاروبار کرنے کا خیال ہی دل سے ہمیشہ کے لئے نکال دیا ۔ کبھی یہاں کبھی وہاں جاب کرتا رہا ۔ یہ جمعہ کا دن تھا ۔ اسے پہلی بار زندگی میں یہ خیال آیا کہ نماز جمعہ پڑھنے جایا جائے ۔ نہا دھو کر جمعہ پڑھنے مسجد چلا گیا ۔ مسجد میں خطیب صاحب نے تقریر میں کہا کہ بندہ جب اپنے مال تجارت سے زکوٰۃ دے یا اپنے مال سے صدقہ کرے تو اللہ اس کے مال میں ،کاروبار میں ،زندگی میں دکھوں سے،نقصان سے بچا کر امن، سکون اور برکت عطا فرما دیتا ہے ۔ مولانا صاحب نے مزید کہا کہ تاریخ بھی ایسا کوئی واقعہ نہیں ملتا کہ کوئی مسلمان صدقہ یا زکوٰۃ دینے سے غریب ہوا ہو، بے سکون ہوا ہو،کاروبار میں رزق روزی میں بے برکت ہوا ہو ۔ البتہ زکوٰۃنہ دینے والے،صدقات نہ دینے والے بے سکون بھی ہوتے ہیں ،بے برکت بھی ہوتے ہیں ۔ صدقہ ایک راستے سے جاتا ہے اور دو راستوں سے رزق لے کر آتا ہے اور اسی طرح زکوٰۃ دینے سے مال بھی پاک ہوتا ہے ۔ مولانا صاحب بولے جا رہے تھے،ایک ایک لفظ دل میں اتر رہا تھا ۔ وہ سوال جس کا نہ ضمیر جواب دے سکا تھا اور نہ دوست احباب،وہ جواب آج مولانا صاحب کی تقریر میں اسے مل چکا تھا ۔ بس نماز ادا کی، مولوی صاحب سے ممنون و مشکور انداز سے ملے، جیب میں موجود اچھی خاصی رقم بطور ہدیہ مولوی صاحب کی خدمت میں پیش کی اور خوشی خوشی گھر آگئے ۔ بیوی نے وجہ خوشی معلوم کرنا چاہی تو کہا کہ اب میرا کاروبار کبھی ٹھپ نہ ہوگا ۔ میں کاروباری معاملات میں کبھی مشکل نہیں دیکھوں گا ۔ بس تو دیکھتی جا! اگلے دن جاب سے استعفیٰ دیا اور سیدھے مولانا صاحب کے پاس پہنچے ۔ نصاب زکوٰۃ کی جانکاری لی ۔ گھر آکر اپنے مال کا حساب کیا اور بستی کے19 غریب گھرانوں میں زکوٰۃ کی ساری رقم تقسیم کی ۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد باقی رقم جو اب پاک ہوچکی تھی سے بلڈنگ میٹرل کاسامان کرا ئے پر اچھی بڑ ی دکان لے کر ڈال دیا ۔ پہلے تین چار ماہ تو کوئی خاص مزہ نہ آیا نفع کے حوالے سے مگر نقصان بھی نہ ہوا ۔ کاروبار میں ترقی و برکت نہ ہوتے ہوئے دیکھ کر اب آہستہ آہستہ اس کے دل سے مولانا صاحب سے سنی باتوں کا یقین دور ہونے لگا، بیوی پہلے ہی مولوی صاحب کی باتوں سے مایوس ہو چکی تھی، روزبروز مایوسی میں اضافہ ہوتاگیا ، اسی دوران سال پورا ہوا ۔ مولانا صاحب کے پاس گئے اور اپنا سارا رونا رویا،مایوسی اور نا امیدی کا ماتم کیا ۔ مولانا نے پھر کہا کہ اب پھر اپنے موجودہ مال تجارت سے نصاب کے مطابق زکوٰۃ دو ۔ وہ بڑا حیران ہوا اور کہنے لگا کہ مجھ سے اب یہ نہیں ہوگا ۔ میں پچھلے سال بھی آپ کی ہدایت کے مطابق زکوٰۃ دے چکا مگر کوئی ترقی برکت نہیں ہوئی ۔ مولانا بھی کوئی عام مولوی نہ تھا ۔ جب سا ئل کو مایوسی اور بے یقینی کی حدوں کو چھوتا دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ اب قرآنی یا دینی حوالہ جات سے مطمئن ہونے والے نہیں ۔ مولانا نے اپنے ایک مالدار نمازی کو جو مولانا کی ہر بات پر جان چھڑکتے تھے سے سا ئل کو ضمانت دلائی کہ وہ پھر زکوٰۃ دے شر عی نصاب کے مطابق اور اپنا کاروبار جاری رکھے ۔ اگر آئندہ سال تک کاروبار میں ترقی نہ ہوئی تو یہ آدمی آپ سے آپ کا سارا کاروبار خرید لے گا اور آپ کی زکوٰۃ پر خرچ ساری رقم اور جاب کی تنخواہ جتنی دوسال کی تنخواہ بھی دیدے گا ۔ وہ ان باتوں سے مطمئن ہوا اور کاروباری مال سے نصاب کے مطابق زکوٰۃ نکال کرمستحقین میں تقسیم کی ۔ اب ہر جمعہ کو مولانا صاحب کاروبار کا حال پوچھتے تو جواب میں وہی مایوسی کی باتیں اور امید کے بجھتے چراغ! حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ سائل سے زیادہ مولانا کو فکر ہونے لگی ۔ رات کا پچھلا پہر ہوا ۔ مولانا نے دست دعا بلند کی ۔ ’’اے اللّہ ! میں نے تیرے قرآن سے ایک بھٹکے ہوئے کو بگڑی ہوئی حالت سے سدھارنا چاہا، تیرے محبوب کی احادیث پڑھ کر حلال مال میں برکت کا یقین دلایا، اے اللّہ ! مجھے تیرے اور تیرے محبوب کے احکامات اور دلاسوں پر یقین ہے مگر میرے ذر یعے تجھ پر اور تیرے محبوب کی باتوں پر یقین کرنے والا مایوس ہوتا جا رہا ہے ۔ اے رب ذوالجلال! تو اس کی روزی کاروبار میں برکت فرما ۔ ‘‘ مولانا صاحب روزانہ دعا کرتے رہے ۔ کچھ ہی دنوں بعد ایک دن خلاف معمول پیر کے روز دکاندار صاحب ظہر کی نماز کے وقت دمکتے چمکتے چہرے کے ساتھ مسجد میں مولانا صاحب کے پاس آئے اور خوشخبری سنائی کہ سیمنٹ فیکٹری والے دو دن پہلے آئے تھے معاہدہ کرکے مجھے ایک بڑا گودام دے کر اور اس میں اپنے مال کی ایجنسی بنا کر دے گئے ہیں ۔ اب اس پورے شہر میں اس کمپنی کا سیمنٹ میرے سوا کوئی کمپنی ریٹ پر نہیں بیچ سکے گا ۔ کل سے لے کر اب تک میں کئی ٹرک مال علاقہ کے ڈیلرز کو بیچ چکا ہوں جس کی مد میں مجھے معقول منافع ہوا ہے ۔ اسی طرح سلسلہ چلتا رہا تو مجھے اپنے کاروبار میں دن دگنی رات چگنی ترقی نظر آرہی ہے اور میں دو دن سے انتہائی مطمئن ہوں ۔ مولانا صاحب نے خوشخبری سن کر اللّہ کا شکر بجا لانے کیلئے دو رکعت نماز شکرانہ پڑھی ۔ ابھی دو چار ہی مہینے گزرے تھے کہ دو اور کمپنیوں نے اپنے مختلف نوعیت کے بلڈنگ میٹریل کے سامان کی ایجنسی گودام بنا کر دینے کامعاہدہ کر لیا ۔ قصہ مختصر کاروبار میں دن دگنی رات چگنی ترقی ہوتی گئی ۔ ناکام تاجر اور اس کی بیوی اب اپنی سابقہ نا امیدی پر اللہ سے ہمہ وقت معافی مانگتے ہیں ۔ انہوں نے مولانا صاحب کو ایک بڑے شہر میں ایک بہت بڑا ادارہ بنا کر دیا ہے، جس میں یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت اور پرورش ہورہی ہے اورسارا خرچہ ماضی کا ناکام ترین اور حال کاکامیاب ترین یہی تاجر برداشت کرتا ہے اوریہ سب کچھ زکوٰۃ کی ادائیگی کا نتیجہ ہے ۔ عقل والوں کے لئے اس واقعہ میں بڑ ی نشانیاں ہیں ۔



